دہشت گردوں کی کمر – ایکسپریس اردو

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن دہشت گردوں کا تعلق ایسی مخلوق سے معلوم ہوتا ہے جو اپنے پاس مصنوعی اعضا کا اسٹاک رکھتی ہے۔ سر سے لے کر پیر تک ہر عضو کا ان کے پاس اسٹاک ہوتا ہے اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ ہماری جری اور بے جگر سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کا بے بہا نذرانہ پیش کرکے انھیں ادھ موا کردیا ہے لیکن یہ مخلوق کسی پتھر کے نیچے سے یا کسی جھاڑی کے پیچھے سے اچانک نکل آتی ہے اور پلک جھپکنے میں انسانوں کو ان کے خون میں نہلا کر اور خود اپنے چیتھڑے اڑا کر دنیا کو حیرت زدہ چھوڑ جاتی ہے۔

24 جولائی کو لاہور میں فیروز پور روڈ پر ایک وحشی نے بے گناہ انسانوں میں گھس کر خود کو اڑا لیا اس ننگ انسانیت حرکت سے 26 بے گناہ پاکستانی جاں بحق اور 57 زخمی ہوگئے اس بربریت کا نشانہ بننے والوں میں 9 وہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جو اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔ جاں بحق اور زخمی ہونے والی اتنی بڑی تعداد کے پیش نظر اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی شہر کا انتظام وزارت داخلہ کے پاس ہوتا ہے ہمارے سابق وزیر داخلہ ایک غیر معمولی اہم پریس کانفرنس کرنے کے لیے تشریف لائے کہ ان کی ممکنہ پریس کانفرنس سے تھوڑی دیر پہلے یہ انسان کش سانحہ پیش آیا جس کی وجہ سے وزیر داخلہ کو اپنی پریس کانفرنس ملتوی کرنا پڑی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاناما لیکس کے حوالے سے ملک ایک ہنگامی دور سے گزر رہا  تھا اور ہمارے وزیر خارجہ اسی حوالے سے ایک غیر معمولی اہمیت کی حامل پریس کانفرنس کرنے جا رہے تھے اور  سابق وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس ملتوی کرنے سے سانس درست کرنے کا موقع مل گیا۔

ویسے تو دنیا کے کئی ممالک ایک عرصے سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں خاص طور پر مسلم ممالک، لیکن پاکستان اور افغانستان دو ایسے ملک ہیں جہاں کے عوام سانس بھی نہیں لے پاتے کہ دوسرا خودکش حملہ ان کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ 24 ہی تاریخ کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں زہریلے انسانوں نے ایک خودکش کار بم دھماکا کردیا جس میں 35 افغانی ہلاک اور 40 افغانی باشندے زخمی ہوگئے یہ حملہ حالیہ ہفتوں میں ہونے والے دھماکوں میں سے ایک بدتر دھماکا تھا جس نے 35 ہنستے کھیلتے افغانیوں کی جان لے لی اور 40 سے زیادہ افغان باشندوں کو زخمی کردیا۔ روایت اور مجبوری کے تقاضے پورے کرنے کے لیے حکمران طبقات اور اہل سیاست ان دھماکوں کی مذمت کرتے ہیں اور لواحقین سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن مذمت اور تعزیت کا یہ سلسلہ اب اس قدر دراز ہوگیا ہے کہ اب حکمران طبقات کو مذمت اور تعزیت کے حصار سے نکل کر موثر عملی اقدامات کی طرف آنا ہوگا۔

اس میں شک نہیں کہ مغرب کے ترقی یافتہ ملک ابھی تک پاکستان اور افغانستان نہیں بن سکے ہیں لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ جلد یا بدیر مغربی ملک بھی پاکستان اور افغانستان بن سکتے ہیں۔ ہم نے اس خطے کے حوالے سے پاکستان اور افغانستان کی حالت زار کا حوالہ دیا ہے لیکن اس خطے سے باہر نکلیں تو کئی ملک ہمیں پاکستان اور افغانستان سے زیادہ تباہ حال ملیں گے جن میں شام ہے، عراق ہے، یمن ہے اور افریقہ کے کئی ممالک ہیں جہاں دھماکوں اور ہلاکتوں کا کلچر عام ہے اور یہ بس دنیا پر غلبہ حاصل کرنے اور دنیا کو مشرف بہ اسلام کرنے کی خاطر کیا جا رہا ہے یہ الگ بات ہے کہ اس وبا سے مسلم ملک ہی زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

بلاشبہ ابھی تک مغربی ممالک اتنی بڑی تباہی سے بچے ہوئے ہیں لیکن ان ملکوں میں بھی یہ ہلاکت خیز وبا پہنچی ہوئی ہے۔ ایک تازہ خبر کے مطابق 173 دہشت گردوں نے یورپ پر حملوں کا حلف اٹھالیا ہے۔ انٹرپول کے مطابق داعش کے 173 دہشت گردوں نے یورپ پر حملوں کا حلف اٹھالیا ہے۔ کسی بھی وقت یہ دہشت گرد یورپ کے کسی ملک کی کسی تقریب، تنصیب یا دیگر اہداف کو اپنا نشانہ بناسکتے ہیں۔ انٹرپول کی اس فہرست کے مطابق یہ 173 دہشت گرد بموں، دھماکا خیز مواد اور مختلف دہشت گردانہ منصوبوں کے ماہر ہیں جن کا مبینہ ہدف اب یورپ ہوگا۔

یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مغرب کے طاقتور ترین ملک اور ماہر ترین منصوبہ ساز عشروں سے دہشت گردی کی بے رحمانہ وارداتوں کو دیکھ رہے ہیں جن میں اب تک لاکھوں بے گناہ انسان انتہائی وحشیانہ موت کا شکار ہوچکے ہیں لیکن اس وبا کی روک تھام میں سنجیدہ نظر نہیں آتے اس حوالے سے عموماً جو اجلاس اور کانفرنسیں ہوتی ہیں وہ عموماً نشستند، گفتند و برخواستند تک محدود رہتی ہیں اس وبا کی روک تھام کے لیے نہ کوئی موثر تنظیم قائم کی جاتی ہے نہ کوئی ماہرانہ منصوبہ بندی نظر آتی ہے۔

پاکستان اور افغانستان دو انتہائی پسماندہ ملک ہیں لیکن بدقسمتی یا حکمرانوں کی بے ہودہ سیاست کی وجہ سے یہ دونوں ملک دہشت گردی کے اکھاڑوں میں بدل کر رہ گئے ہیں اور ان ملکوں کے ہزاروں غریب اور بے گناہ عوام انتہائی اذیت ناک موت کا شکار ہو رہے ہیں، پاکستان کا موقف یہ ہے کہ اس سارے المیے میں بھارت کا ہاتھ ہے اور افغانستان کا موقف ہے کہ اس سارے المیے میں پاکستان ملوث ہے۔ کیا تینوں پسماندہ ملکوں کا حکمران طبقہ اس ہلاکت خیز سیاست سے باہر نکلے گا؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *