شہر قائد میں کچرا کلچر کا خاتمہ کیسے؟

سیکڑوں افراد کراچی جیسے میگا سٹی میں علاج کی ناکافی سہولتوں کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔  فوٹو : فائل

سیکڑوں افراد کراچی جیسے میگا سٹی میں علاج کی ناکافی سہولتوں کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں ۔ فوٹو : فائل

ہمارے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کراچی میں کچرا کنڈیاں نہ ہونے کے سبب عوام نے فٹ پاتھوں، سڑکوں، کھیلوں کے گراؤنڈز، پارکوں اور چورنگیوں کو کچرا کنڈیوں میں تبدیل کر ڈالا ہے  اور کچرا لا کر فٹ پاتھوں، سڑکوں اور کھیلوں کے گراؤنڈ میں ڈالا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شہر میں مزید ایک ہزار کچراکنڈیوں کی تعمیر کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔

کسی بھی اسپتال یا کلینک پر چلے جائیں آپ کو مریضوں کا اژدھام نظر آئے گا، جب کہ ہر سال وبائی امراض پھوٹنے کی شرح بہت بڑھ چکی ہے، آج کل چکن گونیا پھیلا ہوا ہے جب کہ سیکڑوں افراد کراچی جیسے میگا سٹی میں علاج کی ناکافی سہولتوں کے باعث لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ ناقص انتظامی مشنری کے باعث مسائل ایسی نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ان  میں اصلاح کی تدبیر تک نظر نہیں آتی۔ کراچی کیا ایسا تھا ماضی میں؟ جواب تلاش کرنے کے لیے ہم ذرا سا تاریخ کے جھروکے میں جھانکتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں دلی عالم میں انتخاب ایک شہر تھا تو تقسیم کے بعد دوسرا شہر کراچی بنا، دلی کو دلی بننے میں صدیاں لگیں جب کہ ایک چھوٹے سے شہرکو دنیا کا آٹھواں بڑا شہر بننے میں نصف صدی سے تھوڑ سا زائد عرصہ لگا۔

جو عروس البلاد، روشنیوں کا شہر، منی پاکستان کے القابات سے پکارا گیا اور سب سے بڑھ کر غریب پرور شہر کھلایا، ایک دھرتی ماں کی طرح اس کی آغوش میں سب نے پناہ لی۔ ایک نئے کلچر کی بنیاد پڑی، جو کراچی کا اپنا کلچر کہلایا، ایک ایسا خوشنما گلدستہ جس میں ہر رنگ کے پھول تھے، ایک صاف ستھرا شہر، جہاں پر انسانی زندگی کی تمام سہولتیں میسر تھیں لیکن گزشتہ بیس برسوں میں آبادی کے دباؤ کا مقابلہ نہ کرنے کی سرکاری حکمت عملی کے باعث آج کراچی کچرا کنڈی میں تبدیل ہو گیا۔ کراچی کا تشخص بحال کرنے کے لیے کچرا کلچر کا خاتمہ ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *