مبارک ہو خان صاحب – ایکسپریس اردو

muhammad.anis@expressnews.tv

[email protected]

اب کے میں نے کتاب مساوات ایک اک ورق پڑھ کے دیکھی :

متن میں جانے کیا کچھ لکھا ہے مگر حاشیہ مختلف ہے

حالات کے جبر کو جب الفاظ دینے لگا تو زہرکا پیالہ بن گیا۔ ایسے میں افتخارعارف کے اس شعر نے سارا مسئلہ حل کر دیا۔ میں ایک ایسے ملک کا شہری ہوں جہاں ہر دوسرا آدمی خود کو وزیر اعظم کا امیدوار سمجھتا ہے۔ کسی کی شادی میں شرکت کے لیے جائیں تو لگتا ہے ہر ٹیبل پر ایک مفکراعظم بیٹھا ہے۔کبھی جنازے میں کاندھا دینے جائیں تو یوں لگتا ہے کہ اس ملک کی معیشت کو سمجھنے والے ہرگھر میں موجود ہیں۔ میں نے جب یہ لکھا کہ یہاں جس کی بیوی مارمارکر دہی لینے بھیجتی ہے وہ بھی دکان تک پہنچنے سے پہلے دفاعی تجزیہ کار بن جاتا ہے تو دوستوں نے پتھر مارنا شروع کر دیے۔

آنکھیں رکھنے کی اداکاری کرنے والے یہ سارے اندھے، نفرتوں کی لکیر سے آگے چل ہی نہیں سکتے اورکچھ لوگ جو منہ میں زبان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ پیدائشی گونگے نظر آتے ہیں۔ کبھی کبھی تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ ان کا بس نہیں چلتا جو دن اور رات کے عمل کو بھی ایک سازش قرار دے کر سارا پرائم ٹائم پی جائیں۔ سازش ان کی فطرت میں بسی ہوئی ہے۔ وہ کھانا بھی کھاتے ہونگے تو سوچتے ہونگے کہ کہیں امریکا، اسرائیل اور ہماری طاقتور اسٹیبلشمنٹ نے ان کے کھانے میں نمک تو نہیں ملا دیا۔ ایک دوسرا طبقہ ہے جو اندھی تقلید میں مرا جا رہا ہے۔ جسے یہ لگتا ہے کہ جب اس کا لیڈر پھنس جائے تو سب چور ہیں اور جب دوسروں کے منہ پر پسینہ آنے لگے تو اس ملک میں ’’ نیا جیون‘‘ شروع ہوگیا ہے۔

ساری بکواس دیکھنے اور سُننے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ ’’ٹائم پاس‘‘ کرنا کیا ہوتا ہے۔ کسی کو اندرکی کہانی معلوم نہیں ہوگی لیکن ایک لفظ سُن کر سارے داستاں گو بڑے بڑے فسانے شروع کردیتے ہیں۔ ایک ’’ماہر سیاست‘‘ کی سوئی، اسٹیبلشمنٹ سے آگے ہی نہیں بڑھ پاتی۔ جب کہ ایک دفاعی تجزیہ کار کو سیاست سے اتنی شدید نفرت ہے کہ وہ لغت میں بھی سیاست کے معنی’’ چور‘‘ رکھوانے پر بضد ہیں۔ یہ لوگ اپنے فن میں اب اتنے ماہر ہو گئے ہیں کہ انھیں ایک لفظ کہیں تو پوری کہانی سمجھ جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر آپ صرف ا تناکہیں کہ نواز شریف مری گئے ہیں۔ اب باقی کی کہانی یہ خود بنا لیں گے۔ اب جیسے کہ یقیناً مری میں بڑی سازش تیار ہو رہی ہوگی۔ یہ مودی کا یار ہے۔ تمھیں نہیں معلوم کہ اُس کے دوست سے وہ مری میں ہی ملا تھا۔ مری میں ہی تو حکومت کی ساری پلاننگ ہوتی تھی۔ یہ بے لاگ بولتے ہی جائیں گے۔ سانس تک نہیں لیں گے، لیکن اگر ان کے کان میں پھر اتنا کہہ دیں کہ وہ مری نہیں گئے۔ تو ایک الگ کہانی شروع ہو جائے گی۔کہیں گے آپ کو نہیں معلوم کہ اب مری کیوں نہیں گئے۔ انھیں اسٹیبلشمنٹ نے جانے ہی نہیں دیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اب یہ لوگ ایک دو نہیں ہیں بلکہ ہر چوراہے، ٹوئیٹر اورگلی میں آپ کو مل جائیں گے۔

اب دوسرا گروپ دیکھیں انھیں صرف ایک نامعلوم اکاونٹ سے ٹوئیٹر پر اتنا کہہ دیں کہ عمران خان پشاورگئے ہیں۔ وہ کہانی شروع کردیں گے کہ ہم تو بچپن سے کہہ رہے ہیں کہ وہ بھاگ جائے گا۔ وہ سازشی ہے، وہ کسی کے ہاتھ میں استعمال ہو رہا ہے اورانھیں کہہ دیں کہ کچھ دن سے وہ پشاور نہیں گئے۔تو نقشہ کھینچنا شروع کردیں گے کہ یقینا لندن میں کوئی سازش ہو رہی ہے۔

بات کہیں اور نکل جائے گی۔ آپ کو ایک کہانی سُناتا ہوں۔گاؤں میں ایک بڑھیا تنہا اپنی زندگی گزار رہی تھی۔ شوہرکا انتقال ہو چکا اور بچے اپنے بہتر مستقبل کے لیے شہر میں رہنے لگے تھے۔کچھ سالوں پہلے ’’کوڑھ‘‘ لگ گیا۔ تو بچوں نے گاؤں آنا ہی چھوڑ دیا کہ کہیں اپنی ماں کی بیماری سے ان کے شہری بچے متاثر نہ ہوجائیں۔ گاؤں کے لوگ دن میں کسی ایک وقت کھانا دے دیتے۔کچھ دنوں سے بڑھیا کے گندے آنگن میں ایک کتیا آ کر بیٹھنے لگ گئی تھی۔ گاؤں کے لوگ جو ایک وقت کا کھانا دیا کرتے تھے یہ کہہ کر انکارکر دیا کہ تمھارے گھر کے باہر کتیا بیٹھتی ہے اس لیے ہم نہیں آسکتے۔

تمھیں کھانا چاہیے ہو تو ہم ایک درخت کے نیچے رکھ دیں گے تم وہاں آکر لے جانا۔ مجبور تھی۔اس لیے یہ بات بھی مان لی۔ کچھ دن بعد کتیا نے بچے دیے۔ کتیا کے بچے جیسے بڑے ہونے لگے تو بڑھیا نے دیکھا کہ ان کی دم پر سنہرے بال ہیں۔ جب اُس نے ایک بچے کی دم سے بال نکالا تو وہ حیرت میں پڑ گئی کہ وہ سونے کا بال تھا۔ اُس نے فورا جا کر ایک دکان دار کو دکھایا تو اُس نے کچھ رقم دے دی۔ اب بڑھیا کا حال اچھا ہونے لگا وہ سونے کے بال نکالتی اور بازار جا کر بیچ دے دیتی۔ ایک ملازم بھی رکھ لیا اور اپنی بیماری کا علاج بھی شروع کردیا۔

سونے کے بال کی یہ شہرت ہر جگہ پھیل گئی۔ کچھ سوداگروں نے کتے کے بچوں کی قیمت بھی لگانی شروع کردی مگر بڑھیا نے بیچنے سے منع کر دیا، پھر ایک سازشی ٹولا آیا۔ اُس نے چوروں کے ساتھ مل کرکتے کے بچے اغواء کرنے کا منصوبہ بنایا۔ 7 بچوں میں سے دو اغواء کرلیے۔ جب اغواء کر کے اپنے ٹھکانے پہنچے اور سونے کا بال نکالنے کی کوشش کی تو جیسے ہی انھوں نے بال کھینچا۔ بچہ مر گیا۔ اب ہر جگہ یہ مشہور ہو گیا کہ سونے کا بال صرف اور صرف بڑھیا ہی نکال سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جو نکالنے کی کوشش کرے گا تو کتے کا بچہ مر جائے گا اور سونے کا بال نہیں ملے گا۔

دولت کی شہرت سُن کر بچوں کو ماں کی یاد آگئی ۔ لیکن ماں تھی کہ اب اپنا سب کچھ کتے کے بچوں کو سمجھتی تھی۔ ماں سے مایوس ہوکر بچے واپس لوٹ گئے۔ بڑھیا اپنا برا اور اچھا وقت دیکھ چکی تھی ۔ وہ یہ جان گئی تھی کہ برے وقت میں کوئی ساتھ نہیں چلتا اور اچھے وقت میں سب پیروں کے نیچے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں لوگوں کا وقت بھی اس بڑھیا کی طرح کا ہے۔ جب برا وقت ہوتا ہے تو لوگ کھانا بھی نہیں دیتے اور جب اچھا وقت ہوتا ہے تو کوئی گھر کا دروازہ نہیں چھوڑتا۔ کہنے کی بات صرف اتنی ہے کہ اس وقت عمران خان کے پاس سونے کے بال ہیں۔

اس لیے لوگ ان کے گرد ہیں۔ جو پیپلز پارٹی کے جیالے یا مسلم لیگ کے متوالے ان کی جھولی میں آکرگررہے ہیں وہ سب یہ جانتے ہیں کہ اگر انھوں نے کتے کے بال نکالنے کی کوشش کی تو وہ مرجائیں گے بہتر یہ ہے کہ جس کے ہاتھوں میں ابھی جادو ہے اُسی کے ساتھ چلا جائے۔ میں نے یہ وقت پیپلز پارٹی، نواز شریف، اورکئی طاقتور اداروں کا دیکھا ہے۔ سوشل میڈیا کے ماہر تجزیہ کارکچھ بھی کہیں۔ مجھے لگتا ہے یہاں سونے کے بالوں کے طلب گار بہت ہیں اور وقت بہت کم ہے۔

سرکاری افسروں سے ملنے کے لیے ہمارے یہاں لوگ چپراسی کا راستہ ڈھونڈھتے ہیں اورکوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح چپراسی ہمیں صاحب سے ملوا دے۔ اکثر لوگ صاحب کی اوقات کے مطابق چپراسی کی مٹھی گرم کرتے ہیں۔ عمران خان صاحب کہتے تھے کہ میں شیخ رشید کو چپراسی بھی نا رکھوں۔ مگر میرا کہنا یہ ہے کہ عمران خان کے پاس جہاں اب سونے کے بال ہیں۔ اس سونے کے طلبگار بھی ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ایسے میں انھوں نے چپراسی سے صاحب تک پہنچنے کا راستہ بھی ڈھونڈھ لیا ہے۔ مبارک ہو خان صاحب ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *