نئے موڑ پر – ایکسپریس اردو

Jvqazi@gmail.com

[email protected]

اس نئے موڑ پر ہم بالآخر پہنچ ہی گئے نہ گلاس ٹوٹا نہ رنج و غم پسِ چشم پنہاں ہوا، یہ ہے وہ فرق جو میاں صاحب اور بھٹو میں تھا۔ وہ اپنا وجود کھو بیٹھے اور تاریخ میں ایسے امر ہوئے کہ شاید غالبؔ کی یہ سطریں حق ادا کر سکیں:

سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاںہو گئیں

خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں

میں چھوٹا تھا، پٹارو کالج میں کلاس میں بیٹھے تھے کہ گیارہ بجے کے قریب خبر ملی کہ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ میرے والد بھٹو کے بہت بڑے اَسیر تھے۔ بھٹو کا سانحہ، مشرقی پاکستان میں ان کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا تو نہیں، مگر میرے آنسو تھے کہ ٹھہرتے نہیں تھے۔ میں کیا پورا سندھ اور ہر وہ شخص جو آمریت کے خلاف جدوجہد کر رہا تھا، سب کی آنکھیں نم تھیں۔ پاپولر وزیراعظم تین ہی تھے۔ بھٹو، بے نظیر اور میاں صاحب۔ 27 دسمبر کی وہ شام کتنی عجیب تھی۔ کراچی کی مصروف شاہراہوں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔

پورا نیشنل ہائی وے کراچی سے لے کر سکھر تک سانت تھا۔ گلی گلی، نگر نگر ہر سَُو غم کی لہر تھی۔ قیامت کا وہ منظر اس سے پہلے میں نے سندھ میں کبھی نہ دیکھا۔ شاید بھٹو کے غم سے بھی بڑا، مگر تاریخ میں بھٹو، بینظیر سے بھی بڑے تھے۔ بھٹو نے جو اپنے اجداد سے پایا، وہی سب پیچھے چھوڑا، جیسے 70 کلفٹن اور المرتضیٰ لاڑکانہ۔ مگر بینظیر کے اثاثے اس کی آمدنی سے زیادہ تھے اور بینظیر کے بعد بینظیرکے اثاثے بڑھتے ہی چلے گئے۔ یہ بھٹوز جسمانی طور پر تو بقا نہ پا سکے لیکن سیاسی طور پر تاریخ میں اب بھی باقی ہیں اور شاید ہمیشہ رہیں گے۔ اس کے برعکس میاں صاحب سیاسی طور پر بقا نہیں پا سکے، یہاں تک کہ وہ حیثیت بھٹو کے داماد زرداری کو بھی حاصل نہ ہو سکی۔

میاں صاحب بطور پاپولر لیڈر؟ یا تو اس فریز کی تشریح میں تبدیلی کرنی ہوگی یا پھر بھرم کی خاطر کچھ اضافی پوائنٹس ان کو دینے پڑیں گے۔ اگر وہ پاپولر لیڈر ہیں بھی تو سینٹرل پنجاب کے۔ انھوں نے لفظ پاپولر کو ECONOMIZE کر دیا۔ وہ سمجھے کہ طاقت کا گڑھ ملک کے پورے عوام نہیں بلکہ صرف سینٹرل پنجاب ہے۔ پہلے دور میںمسلم لیگ (ن) نے سندھ میں بھی حکومت بنائی تھی، پھر گھاٹے کا سودا سمجھ کر انھوں نے یہ فیکٹری بند کر دی۔ بہتر یہی سمجھا کہ اب ساری توجہ سینٹرل پنجاب اور لاہور پر مرکوز کی جائے، بلیو لائن، گرین لائن، اورنج لائن وغیرہ وغیرہ۔

بھٹو کے لیے بھی لوگ روئے تو بہت تھے مگر سڑکوں پر نہ آئے۔ بھٹو کی پھانسی کے کچھ سال بعد، دیہی سندھ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے سڑکوں پر نکل آیا۔ بنیادی طور پر اس تحریک کے پیچھے بھٹو کی پھانسی کا غم تھا، جو سندھیوں کے دلوں میں رَچ گیا تھا۔ مگر بھٹو کے لیے نہ سینٹرل پنجاب سڑکوں پر آیا نہ ساؤتھ پنجاب، لیکن اس بات کی حیثیت ثانوی رہ گئی، اس وقت، جب بینظیر بھٹو لاہور ائیرپورٹ پر پہنچیں 1986ء میں، لمبی جِلاوطنی کے بعد۔ لوگوں کا جیسے سمندر امڈ آیا تھا۔ پورا لاہور سڑکوں پر تھا۔ فلک شگاف نعرے تھے، رقص تھا، دھمالیں تھیں اور یہ سب جہوریت کے لیے تھا۔ اور بینظیر جمہوریت کی علامت تھی۔

اس دفعہ بھی ایک وزیراعظم کو رخصت کیا گیا۔ لیکن ہجوم ان کے جلسوں میں زیادہ ہے جنھوں نے وزیراعظم کو رخصت کروایا ہے۔ یہ ماجرا کیا ہے؟ اور یہی بات غور طلب ہے۔ اسی لیے میں نے کہا نہ یا تو ہمیں پاپولر کی تشریح میں تبدیلی لانی ہو گی یا پھر…

سب سے پہلے تو کورٹ نے کیا کیا۔ کورٹ کے مطابق میاں صاحب کا کیس آرٹیکل 184(3) کی جیورڈکشن میں آیا ہے اور سپریم کورٹ، ٹرائل کورٹ نہیں لہٰذا بادی النظر شواہدات کے تحت ان کے ریفرنسز بنائے جائیں۔ ہاں مگر ان تمام ثبوتوں میں، جو کہ JIT نے اکھٹے کیے تھے، ایک ثبوت ناقابلِ تردید بھی تھا، وہ تھا ’’اقامہ‘‘۔ فرض کر لیجیے امریکا کے صدر ٹرمپ دہری شہریت رکھیں، امریکا اور ساتھ ساتھ روس کی بھی اور ساتھ ہی وہ امریکا کے صدر بھی ہیں تو آپ ہی بتائیے کہ امریکا کی عدالت کو کیا کرنا چاہیے؟ وہ خود اپنے ہی حلف کے منافی ہوتے۔ ’’اقامہ‘‘ اگر دیکھا جائے تو اور کچھ نہیں بلکہ دہری شہریت ہے۔ عمران خان کی پٹیشن میں جو جھول تھا وہ یہ تھا کہ ان کی ”Prayer” پاناما کے تناظر میں بنی ہوئی تھی، یعنی ان کے اثاثے ان کی آمدنی سے زیادہ تھے، جب کہ شیخ رشید کی پٹیشن میں گنجائش موجود تھی۔

وزیراعظم کی نااہلی کی Prayer کی بنیاد یہ تھی کہ وزیراعظم کو نااہل قراد دیا جائے کیونکہ انھوں نے اپنے پورے اثاثے Declare نہیں کیے۔ اس طرح سے اقامہ کی تشریح ہوتے ہوتے یہ بات سامنے آئی کہ میاں صاحب نے Capital FZE سے حاصل ہوئی آمدنی کو Declare نہیں کیا۔ لیکن اگر پٹیشن میں Prayer اس طرح سے ہوتی کہ میاں صاحب دہری شہریت رکھتے ہیں تو ان کے ساتھ بھی وہ ہی ہوتا جو کہ مراد علی شاہ اور ایسے کئی ممبران کے ساتھ ہوا جو کینیڈا اور پاکستان دونوں کی شہریت رکھتے تھے۔ مگر میاں صاحب تو ملک کے سب سے بڑے پبلک آفس کے ہولڈر تھے اور رہا سوال آرٹیکل 62(1)(F) کا تو میاں صاحب کی تمام سیاست کا بنیادی نکتہ ہی یہی تھا۔ یہ ترمیم ان کے رہبر نے متعارف کروائی تھی۔ ایک بھرپور موقع میاں صاحب کو اٹھارویں ترمیم کے دور میں ملا بھی، لیکن انھوں نے پاکستان کی کھلی سوچ رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کے بجائے مذہبی جماعتوں کے ساتھ صف بندی کو ترجیح دی اور یہ ان کی ضرورت بھی تھی، تا کہ وہ اپنے حلقہ سوچ کی بہتر طریقے سے ترجمانی کر سکیں، جس پر ان کا تمام ووٹ بینک منحصر تھا۔ 62(1)(F) کا استعمال کورٹ نے پہلی مرتبہ تو نہیں کیا تھا، وہ پہلے بھی اسی آرٹیکل کے تحت فیصلے کرتی آئی ہے۔

یوں کہیے کہ میاں صاحب اپنا کیس سیاسی اعتبار سے اس طرح مضبوط بنا سکتے ہیں کہ ان کے ساتھ وہی کچھ ہوا جو پاکستان میں ان سے پہلے وزرائے اعظم کے ساتھ ہو چکا ہے۔ مگر کیا مؤرخ میاں صاحب کی اس جرح کو تسلیم بھی کریں گے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاید نہیں۔ مؤرخ اگر یہ نہ کہے کہ میاں صاحب کے ساتھ انصاف نہ ہوا مگر وہ یہ بھی نہ کہہ سکے گا کہ ناانصافی ہوئی۔

12اکتوبر 1999ء کو پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ جو ہوا وہ ایک بہت بڑی ناانصافی تھی، لیکن 28 جولائی 2017ء کو جو ہوا وہ پہلی مرتبہ تھا پاکستان کی تاریخ میں کہ سب سے بڑے پبلک آفس ہولڈ کرنے والے کو بھی انصاف کی آنکھ سے دیکھا گیا۔ Lord Denning کی مشہور فریز ہے:

May you be ever so high the law shall be above you

مطلب یہ کہ کچھ ایسا ہی معجزہ ہو جائے کہ پاکستان کی عدلیہ بھی اتنی مضبوط ہو کہ قانون کی گرفت تمام پاکستانیوں کے لیے یکساں ہو، جب وہ عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہوں تو کوئی فرق نہ رہے کہ آیا وہ ملک کا وزیراعظم ہے، ایس ای سی پی کا چئیرمین یا ایک معمولی پاکستانی شہری۔

’’قانون سے بالاتر کوئی نہیں‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *