کیک کی موم بتیاں پھونک مار کر بجھانا خطرناک ہے، ماہرین

منہ سے خارج ہونے والے تھوک سے کیک پر موجود جراثیم کی شرح میں 14 سو فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ فوٹو: فائل

منہ سے خارج ہونے والے تھوک سے کیک پر موجود جراثیم کی شرح میں 14 سو فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔ فوٹو: فائل

 واشنگٹن: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کیک پر لگی موم بتیاں پھونک مار بجھانے کا عمل خطرناک ہوتا ہے جس کے نتیجے میں آپ بیمار بھی پڑسکتے ہیں۔

امریکی ریاست جنوبی کیرولینا کی کلیمسن یونی ورسٹی کے محققین نے حفظان خوراک کے موضوع پر تحقیق کی جس میں خوفناک انکشاف ہوا کہ سالگرہ یا کسی بھی موقع پر کیک پر لگی موم بتیوں کو پھونک مار کر بجھانے سے کیک پر موجود جراثیموں کی تعداد میں 1400 فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔

محققین کی ٹیم اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ موم بتیوں کو پُھونک مارنے کے دوران منہ سے خارج ہونے والے تھوک سے کیک پر موجود جراثیم کی شرح میں 14 سو فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔

کلیمسن یونی ورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر پال ڈاسن نے اپنے طلبہ کے ساتھ مل کی یہ تحقیق کی جس کا مدد حفظان خوراک سے متعلق شعور کو اجاگر کرنا تھا۔

ڈاکٹر ڈاؤسن نے واضح کیا کہ تحقیق کے نتائج کے باوجود میرے خیال میں پھونک مار کر کیک کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *