62-63

یہ سارا کریڈٹ والدکو جاتا ہے‘ والد شمس القیوم کاتعلق وزیرستان سے ہے‘ والد نے تعلیم حاصل کی اور یہ تدریس کے شعبے سے منسلک ہوگئے‘ یہ کثیر اولاد ہیں‘یہ چار بیٹوں اور دو بیٹیوں کے والد ہیں‘ یہ روشن خیال اور پڑھے لکھے شخص ہیں چنانچہ انھوں نے بیٹوں کے ساتھ ساتھ بیٹیوں کو بھی اعلیٰ تعلیم دلائی‘ ایک بیٹی ماریہ طورپکئی پیدائشی اسپورٹس لیڈی ہے‘ والد نے اسے لڑکوں کے لباس میں سکوائش کھیلنے کی اجازت دے دی‘ یہ بچپن میں چنگیز خان کہلاتی تھی‘ یہ سکوائش کھیلتے کھیلتے کینیڈا پہنچ گئی‘ یہ اس وقت سکوائش کے عالمی چیمپیئن جوناتھن پاور کی اکیڈمی میں ٹریننگ لے رہی ہے‘ جوناتھن کا خیال ہے ماریہ میں عالمی چیمپیئن بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں‘ دوسری بیٹی کو سیاست کا شوق تھا‘ یہ اسکول اور کالج سے ہوتی ہوئی پشاور یونیورسٹی پہنچی اور انٹرنیشنل ریلیشنز اور اسلامیات میں ماسٹر کیا‘ یہ تقریری مقابلوں میں بھی شریک ہوتی تھی‘ یہ 21 سال کی عمر میں بنوں میں بے نظیر بھٹو سے ملی‘ محترمہ اس کی شخصیت‘ اعتماد اور قابلیت سے متاثر ہوئیں اور انھوں نے اسے فاٹا میں پارٹی کا چیف کوآرڈی نیٹر بنا دیا۔

یہ اس کا سیاسی آغاز تھا‘ یہ اس کے بعد آگے بڑھتی چلی گئی‘ محترمہ شہید ہوئیں تو بے شمار دوسرے کارکنوں کی طرح یہ بھی پارٹی کی توجہ سے محروم ہو گئی‘ یہ مجبوراً جنرل پرویز مشرف کی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ میں آگئی ‘ یہ وہاں سے اکتوبر 2012ء میں پاکستان تحریک انصاف میں آ گئی‘ عمران خان بھی اس کی طلسماتی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے چنانچہ پارٹی نے 2013ء کے الیکشنوں کے بعد اسے خصوصی نشست پر قومی اسمبلی کا رکن بنا دیا‘ یہ قومی اسمبلی کے پڑھے لکھے اور مہذب ارکان میں شمار ہونے لگی‘ یہ عمران خان کے 2014ء کے دھرنے میں بھی پیش پیش تھی‘ یہ پشاور میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہروں میں بھی سب سے آگے ہوتی تھی اور یہ ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بھی پارٹی کی ٹھیک ٹھاک وکالت کرتی تھی لیکن پھر اچانک یکم اگست آ گیا‘ قومی اسمبلی میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کا عمل جاری تھا۔

شاہد خاقان عباسی زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب کہ عمران خان روحانی سپورٹ لینے کے لیے پنکی پیرنی کے ساتھ پاک پتن چلے گئے تھے ‘ اچانک ٹیلی ویژن اسکرینوں پر شمس القیوم کی بیٹی کے حوالے سے ٹِکر چلنے لگے‘ خاتون نے پہلے پارٹی میں خواتین سے ناروا سلوک کا شکوہ کیا‘ پھر عمران خان کے کردار پر حملہ کیا اور آخر میں پریس کانفرنس کا اعلان کر دیا‘ یہ پریس کانفرنس ہوئی اور اس پریس کانفرنس نے ہماری پوری سیاست کو ننگا کر دیا‘ خاتون نے پریس کانفرنس میں عمران خان اور ان کے اردگرد موجود لوگوں کے بارے میں کیا کیا نہیں کہا؟ یہ انکشافات اس قدر خوفناک تھے کہ یہ یکم اگست کی سب سے بڑی خبر نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی نگل گئے‘پہلے اسکرینوں سے وزیراعظم کی حلف برداری کی کوریج غائب ہوئی اورپھر چینلز نو بجے کا خبرنامہ ڈراپ کر کے عائشہ گلا لئی کی پریس کانفرنس دکھانے پر مجبور ہو گئے۔

آپ درست سمجھے ہیں‘ یہ عائشہ گلا لئی کی کہانی تھی‘ اس کہانی کے تین کردار ہیں‘ پہلا کردار عائشہ گلا لئی کا جرات مند والد ہے‘ ہم میں سے جو لوگ قبائلی روایات سے واقف ہیں وہ اچھی طرح جانتے ہیں وزیرستان جیسے علاقے میں بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلانا‘ پھر سیاست میں لانا اور پھر اسے مردوں کے شانہ بشانہ کھڑا کرنا کتنا مشکل کام ہے‘ پتھر سے تیل نکالا جا سکتا ہے لیکن قبائلی معاشرے میں بیٹی کو اتنا آگے لے جانا آسان نہیں ہوتا اور شمس القیوم نے اپنی ایک بیٹی کو سیاسی حقیقت جب کہ دوسری بیٹی کو سکوائش کا بین الاقوامی کھلاڑی بنا کر یہ مشکل ترین کارنامہ سرانجام دیا ‘ یہ کوئی معمولی کام نہیں تھا‘ شمس القیوم یکم اگست کو اس وقت بھی اپنی بیٹی کے پیچھے کھڑا تھا جب وہ بھری پریس کانفرنس میں اپنی لیڈر شپ پر الزامات لگا رہی تھی‘ یہ ہمت‘ یہ جرات چھوٹی بات نہیں‘ ہمیں شمس القیوم کی اس جرات اور عمر بھر کی اس کوشش پر اسے داد دینی پڑے گی‘ دوسرا فریق عائشہ گلا لئی ہے‘ یہ اپنے منہ سے خواتین کے ساتھ ناروا سلوک‘ بلیک بیری کے پیغامات اور غلط ٹیکسٹ میسجز کا ذکر کر رہی ہیں‘ یہ فرنٹ فٹ پر کھیل رہی ہیں‘ یہ پوری قوم کے سامنے الزامات لگا رہی ہیں‘ یہ جرات بھی قابل تعریف ہے۔

ہمارے معاشرے میں لاکھوں عورتیں روزانہ ہراساں ہوتی ہیں‘ ملک کی باون فیصد آبادی جب بھی عملی زندگی میں قدم رکھتی ہے اس کے راستے میں کوئی نہ کوئی مرد کھڑا ہو جاتا ہے اور خاتون سہم کر واپس چلی جاتی ہے‘ عائشہ گلا لئی ان خواتین سے مختلف ثابت ہوئی‘ یہ جرات بھی قابل تعریف ہے‘ ہمیں یہ بھی ماننا پڑے گا آج تک عائشہ گلا لئی کے کردار پر بھی کوئی انگلی نہیں اٹھی‘ پاکستان تحریک انصاف جس کے اندرلوگ عمران خان کے کندھے پر سر رکھنے کے لیے ایک دوسرے کو کہنیاں‘ ٹھڈے اور مکے مارتے رہتے ہیں اس میں بھی آج تک کسی نے عائشہ گلا لئی کے خلاف بات نہیں کی‘ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے بھی عائشہ گلا لئی کے خلاف کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا اور اس کی برادری‘ خاندان اور حلقے سے بھی اس کا کوئی اسکینڈل نہیں نکلا چنانچہ ایسی خاتون کا میڈیا کے سامنے پھٹ پڑنا کوئی عام بات نہیں چنانچہ عائشہ گلا لئی کے الزامات کا سنجیدگی سے نوٹس ہوناچاہیے اور اسکینڈل کا تیسرا فریق عمران خان ہیں‘ عمران خان سیاستدان بننے سے قبل سپر اسٹار تھے چنانچہ یہ جوانی سے آج تک اسکینڈلز کے نرغے میں رہے ہیں‘ آپ انٹرنیٹ کھول کر دیکھ لیں‘ آپ کو عمران خان کے درجنوں اسکینڈلز مل جائیں گے۔

آپ کسی دن ان کی سابق اہلیہ ریحام خان کے منہ سے سن لیں‘ آپ سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور عمران خان کے پرانے دوستوں سے سن لیں‘ آپ ان کے سیکیورٹی عملے سے سن لیں اور آپ ان کی پارٹی کے سنجیدہ لیڈروں کی پرائیویٹ گفتگو سن لیں آپ پریشان ہو جائیں گے‘ عائشہ گلا لئی پہلی خاتون نہیں ہیں‘ آپ عظمیٰ کاردار سے لے کر فوزیہ قصوری‘ ناز بلوچ اور خود شیریں مزاری کے ماضی کے بیانات دیکھ لیں آپ کی آنکھیں کھل جائیں گی‘ آپ کسی دن عمران خان کے دائیں بائیں کھڑے لوگوں کے پروفائل بھی دیکھ لیں‘ آپ ان کا ماضی بھی کھنگال لیں‘ آپ کووہاں سے بھی کہانی کے بے شمار سرے مل جائیں گے۔ میں ہرگز ہرگز عمران خان کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا‘ یہ عین ممکن ہے عمران خان کاکوئی قصور نہ ہو‘ یہ ان کی چارمنگ پرسنیلٹی اور لیڈی کلر شخصیت کا قصور ہو جو دنیا جہاں کی خواتین کو مکھی بنا کر 64سال کی عمر میںبھی ان پر برسا دیتی ہے لیکن یہ اتنا یاد رکھیں یہ اب ٹیسٹ پلیئر نہیں ہیں‘ یہ لیڈر ہیں اور لیڈر باپ ہوتے ہیں۔ ہمیں آج یہ ماننا ہوگا ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی‘ ایم کیو ایم اور اے این پی کے علاوہ کوئی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس میں خواتین بالخصوص نوجوان خواتین خود کو محفوظ سمجھتی ہوں‘ جس میں عورتیں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہوں‘یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہے اور ہمیں من حیث القوم اس بدقسمتی پرتوجہ دینی ہو گی۔

عائشہ گلا لئی کے الزامات پر کمیشن بننا چاہیے‘یہ اگر جھوٹ بول رہی ہیں تو انھیں سزا ملنی چاہیے اور یہ اگر سچی ہیں تو پھر انھیں انصاف ملنا چاہیے‘ یہ سلطانی گواہ بن رہی ہیں تو سپریم کورٹ کو سوموٹو نوٹس لینا چاہیے‘پارلیمنٹ کا تحقیقاتی کمیشن بھی بننا چاہیے‘ ہم اگر بیٹے کی کمپنی میں باپ کی ریسیوایبل تنخواہ کو اثاثے ڈکلیئر کر کے وزیراعظم کو وزیراعظم کی کرسی سے اٹھا سکتے ہیں‘ ہم اگر ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ کو تاحیات نااہل قرار دے سکتے ہیں تو پھر ہم عائشہ گلا لئی کے الزامات پر عمران خان کے خلاف انکوائری کیوں نہیں کرسکتے؟ کیا آئین کی دفعہ 62 اور 63 میں صرف مالی بدعنوانی کے شکار لوگ ہی صادق اور امین نہیں ہیں‘ کیا یہ دفعات اخلاقی الزامات کو الزامات اور اخلاقی جرائم کو جرائم نہیں سمجھتیں‘ سپریم کورٹ کو آج یا کل یہ جواب دینا ہوگا اور ہمیں بھی من حیث القوم یہ ماننا ہوگا ہم منافق لوگ ہیں۔

ہمارے موبائل فونز سے لے کر دماغ تک باسٹھ تریسٹھ پر پورے نہیں اترتے لیکن ہمیں لیڈر امام کعبہ چاہئیں‘ ہم اپنے بے ایمان ہاتھوں سے شہر کے بے ایمان ترین شخص کو ووٹ دیں گے لیکن پھر اس سے ایمانداری کی ساری توقعات وابستہ کر لیں گے‘ ہمیں یہ منافقت بھی ترک کرنا ہوگی‘میں دعوے سے کہتا ہوں آپ پاکستان کے 12 کروڑ موبائل فونز کا ڈیٹا نکال لیجیے‘ یہ تمام لوگ چند منٹوں میں صادق اور امین نہیں رہیں گے‘ آپ کسی ایم پی اے ‘ کسی ایم این اے کے سر پر قرآن مجید رکھ کراس سے یہ سوال پوچھ لیں ’’کیا تم نے الیکشن کے دوران صرف 10 اور 15لاکھ روپے خرچ کیے تھے‘‘آپ کو پاکستان میں کوئی ایم پی اے اور کوئی ایم این اے صادق اور امین نہیں ملے گا اور آپ پاکستان کے کسی کاروباری شخص سے حلف لے کے یہ پوچھ لیں ’’کیا تم نے کبھی ٹیکس سے بچنے کے لیے کوئی کاغذی کمپنی نہیں بنائی‘ کیا تم پورا ٹیکس دیتے ہو‘‘آپ کو اس کا پورا جواب سن کے کوئی تاجرصادق اور امین نہیں ملے گا‘‘ یہ ہیں ہم اور یہ ہے ہماری 62 اور 63۔

The post 62-63 appeared first on ایکسپریس اردو.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *